اس سے آگے تو بس لا مکاں رہ گیا
کلام: انجم سلیمی
اس سے آگے تو بس لا مکاں رہ گیایہ سفر بھی مرا رائیگاں رہ گیا
ہو گئے اپنے جسموں سے بھی بے نیازاور پھر بھی کوئی درمیاں رہ گیا
تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی
مہمان شاعر: انجم سلیمی
اس سے آگے تو بس لا مکاں رہ گیایہ سفر بھی مرا رائیگاں رہ گیا
ہو گئے اپنے جسموں سے بھی بے نیازاور پھر بھی کوئی درمیاں رہ گیا
مری اک اپنی دنیا تھیکسی ہموار بستر پر
میں نیل و نیل اوندھے منہ پڑا ہوںمُجھے درکار ہیں کچھ نیند کی ٹکیاں
ہوس کوئی برتن نہیں چھوڑتیکیسے کیسے گناہوں کی لذت میں لت پت پڑی بےخبر سورہی ہے یہ بستی
مگر بھوک پہلو میں کروٹ پہ کروٹ بدلتے ہوئے جاگتی ہےیہ بستی نہیں، بربریت بھرا ایسا برتن ہے جو بس چھلکنے کے نزدیک ہے
آدھی موت کا جنماپنے ادھورے وجود کے ساتھ
میں نے اپنی آدھی قبر ماں کی کوکھ میں بنائیاور آدھی باپ کے دل میں