عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوں
عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوںرات بستر پہ میں سوتا نہیں مر جاتا ہوں
اکثر اوقات بھرے شہر کے سناٹے میںاس قدر زور سے ہنستا ہوں کہ ڈر جاتا ہوں
تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے انجم سلیمی
مہمان شاعر: انجم سلیمی
عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوںرات بستر پہ میں سوتا نہیں مر جاتا ہوں
اکثر اوقات بھرے شہر کے سناٹے میںاس قدر زور سے ہنستا ہوں کہ ڈر جاتا ہوں
اک دوجے کو دیر سے سمجھا دیر سے یاری کیہم دونوں نے ایک محبت باری باری کی
خود پر ہنسنے والوں میں ہم خود بھی شامل تھےہم نے بھی جی بھر کر اپنی دل آزاری کی
سحر کو کھوج چراغوں پہ انحصار نہ کرہوا سے دوستی رکھ اس کا اعتبار نہ کر
یقین کر او محبت یہی مناسب ہےزیادہ دن مری صحبت کو اختیار نہ کر
مجھے بھی سہنی پڑے گی مخالفت اپنیجو کھل گئی کبھی مجھ پر منافقت اپنی
میں خود سے مل کے کبھی صاف صاف کہہ دوں گامجھے پسند نہیں ہے مداخلت اپنی