6 اشعار

نیند میں کھلتے ہوئے خواب کی عریانی پر

Neend mein khulte hue khwab ki uriyaani par

نیند میں کھلتے ہوئے خواب کی عریانی پر

«نیند میں کھلتے ہوئے خواب کی عریانی پر» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

نیند میں کھلتے ہوئے خواب کی عریانی پرمیں نے بوسہ دیا مہتاب کی پیشانی پر

اس قبیلے میں کوئی عشق سے واقف ہی نہیںلوگ ہنستے ہیں مری چاک گریبانی پر

نظر آتی ہے تجھ ایسوں کو شباہت اپنیمیں نے تصویر بنائی تھی کبھی پانی پر

ہم فقیروں کو اسی خاک سے نسبت ہے بہتہم نہ بیٹھیں گے ترے تخت سلیمانی پر

اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنامیں پریشان ہوا جس کی پریشانی پر

پاس ہے لفظ کی حرمت کا وگرنہ آزرؔکوئی تمغہ تو نہیں ملتا غزل خوانی پر

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں