7 اشعار

آنکھ میں خواب زمانے سے الگ رکھا ہے

Aankh mein khwab zamane se alag rakha hai

آنکھ میں خواب زمانے سے الگ رکھا ہے

«آنکھ میں خواب زمانے سے الگ رکھا ہے» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

آنکھ میں خواب زمانے سے الگ رکھا ہےعکس کو آئنہ خانے سے الگ رکھا ہے

گھر میں گلدان سجائے ہیں تری آمد پراور اک پھول بہانے سے الگ رکھا ہے

کچھ ہوا میں بھی چلانے کے لئے رکھا جائےاس لیے تیر نشانے سے الگ رکھا ہے

اس کے ہونٹوں کو نہیں آنکھ کو دی ہے ترجیحپیاس کو پیاس بجھانے سے الگ رکھا ہے

غیر ممکن ہے کسی اور کے ہاتھ آ جائےوہ خزانہ جو خزانے سے الگ رکھا ہے

اک ہوا سی کہیں باندھی ہے چھپانے کے لئےاک تماشا سا لگانے سے الگ رکھا ہے

خواب ہی خواب میں تعمیر کیا ہے آزرؔگھر کو بنیاد اٹھانے سے الگ رکھا ہے

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں