7 اشعار

آزرؔ رہا ہے تیشہ مرے خاندان میں

Azar raha hai tesha mere khandhan mein

آزرؔ رہا ہے تیشہ مرے خاندان میں

«آزرؔ رہا ہے تیشہ مرے خاندان میں» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

آزرؔ رہا ہے تیشہ مرے خاندان میںپیکر دکھائی دیتے ہیں مجھ کو چٹان میں

سب اپنے اپنے طاق میں تھرا کے رہ گئےکچھ تو کہا ہوا نے چراغوں کے کان میں

میں اپنی جستجو میں یہاں تک پہنچ گیااب آئنہ ہی رہ گیا ہے درمیان میں

منظر بھٹک رہے تھے در و بام کے قریبمیں سو رہا تھا خواب کے پچھلے مکان میں

لذت ملی ہے مجھ کو اذیت میں اس لیےاحساس کھینچنا تھا بدن کی کمان میں

نکلی نہیں ہے دل سے مرے بد دعا کبھیرکھے خدا عدو کو بھی اپنی امان میں

آزرؔ اسی کو لوگ نہ کہتے ہوں آفتاباک داغ سا چمکتا ہے جو آسمان میں

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں