7 اشعار

خود میں کھلتے ہوئے منظر سے نمودار ہوا

Khud mein khulte hue manzar se namoodar hua

خود میں کھلتے ہوئے منظر سے نمودار ہوا

«خود میں کھلتے ہوئے منظر سے نمودار ہوا» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

خود میں کھلتے ہوئے منظر سے نمودار ہواوہ جزیرہ جو سمندر سے نمودار ہوا

میری تنہائی نے پیدا کیے سائے گھر میںکوئی دیوار کوئی در سے نمودار ہوا

چاروں اطراف مرے آئنے رکھے گئے تھےمیں ہی میں اپنے برابر سے نمودار ہوا

آج کی رات گزاری ہے دیے نے مجھ میںآج کا دن مرے اندر سے نمودار ہوا

کیا عجب نقش ہے وہ نقش جو اس دنیا کےکہیں اندر کہیں باہر سے نمودار ہوا

ایک شعلے کی لپک نور میں ڈھل کر آئیایک کردار بہتر سے نمودار ہوا

حق کی پہچان ہوئی خلق کو آزرؔ اس وقتجب علی آپ کے بستر سے نمودار ہوا

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں