مطلب معاملات کا کچھ پا گیا ہوں میں
کلام: عبدالحمیدعدم
مطلب معاملات کا کچھ پا گیا ہوں میںہنس کر فریب چشم کرم کھا گیا ہوں میں
بس انتہا ہے چھوڑیئے بس رہنے دیجئےخود اپنے اعتماد سے شرما گیا ہوں میں
زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)
مہمان شاعر: عبدالحمیدعدم
مطلب معاملات کا کچھ پا گیا ہوں میںہنس کر فریب چشم کرم کھا گیا ہوں میں
بس انتہا ہے چھوڑیئے بس رہنے دیجئےخود اپنے اعتماد سے شرما گیا ہوں میں
جنوں بیمار ہے، آہستہ بولوخِرد لاچار ہے، آہستہ بولو
زمانے کی سماعت جاگتی ہےعدو بیدار ہے، آہستہ بولو
خرد کے دام میں جو آ گئے ہیںوہ دانش مند دھوکا کھا گئے ہیں
ابھی تو فصل گل کی ابتدا تھیابھی سے پھول کیوں مرجھا گئے ہیں