خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں
کلام: عبدالحمیدعدم
خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوںاے گردش ایام میں کچھ سوچ رہا ہوں
ساقی تجھے اک تھوڑی سی تکلیف تو ہوگیساغر کو ذرا تھام میں کچھ سوچ رہا ہوں
زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)
مہمان شاعر: عبدالحمیدعدم
خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوںاے گردش ایام میں کچھ سوچ رہا ہوں
ساقی تجھے اک تھوڑی سی تکلیف تو ہوگیساغر کو ذرا تھام میں کچھ سوچ رہا ہوں
لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لاپھولوں کے رس میں چاند کی کرنیں ملا کے لا
کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیںجا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا