تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا
کلام: عبدالحمیدعدم
تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیاخوش ہوں کہ کچھ نہ کچھ تو مرے پاس رہ گیا
پل بھر میں اس کی شکل نہ آئی اگر نظریک دم الجھ کے رشتۂ انفاس رہ گیا
زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)
مہمان شاعر: عبدالحمیدعدم
تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیاخوش ہوں کہ کچھ نہ کچھ تو مرے پاس رہ گیا
پل بھر میں اس کی شکل نہ آئی اگر نظریک دم الجھ کے رشتۂ انفاس رہ گیا
ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہےمطرب رباب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے
رک رک کے ساز چھیڑ کہ دل مطمئن نہیںتھم تھم کے مے پلا کہ طبیعت اداس ہے
عطا ہم کو بھی اک حسیں جام ہوترا بخت چمکے ترا نام ہو
تمہاری پریشان زلفوں کی خیرہمارا بھی سیدھا کوئی کام ہو