دن گزر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں
کلام: عبدالحمیدعدم
دن گزر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیںزخم بھر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں
آپ کا شہر اگر بار سمجھتا ہے ہمیںکوچ کر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں
زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)
مہمان شاعر: عبدالحمیدعدم
دن گزر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیںزخم بھر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں
آپ کا شہر اگر بار سمجھتا ہے ہمیںکوچ کر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں
ہلکا ہلکا سرور ہے ساقیبات کوئی ضرور ہے ساقی
تیری آنکھوں کو کر دیا سجدہمیرا پہلا قصور ہے ساقی
مجھے حضور کچھ ایسا گمان پڑتا ہےنگاہ سے بھی بدن پر نشان پڑتا ہے
حرم کا عزم پنپتا نظر نہیں اتاکہ راستے میں صنم کا مکان پڑتا ہے