خیرات صرف اتنی ملی ہے حیات سے
کلام: عبدالحمیدعدم
خیرات صرف اتنی ملی ہے حیات سےپانی کی بوند جیسے عطا ہو فرات سے
شبنم اسی جنوں میں ازل سے ہے سینہ کوبخورشید کس مقام پہ ملتا ہے رات سے
زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)
مہمان شاعر: عبدالحمیدعدم
خیرات صرف اتنی ملی ہے حیات سےپانی کی بوند جیسے عطا ہو فرات سے
شبنم اسی جنوں میں ازل سے ہے سینہ کوبخورشید کس مقام پہ ملتا ہے رات سے
دل کے معاملات میں سود و زیاں کی باتایسی ہے جیسے موسم گل میں خزاں کی بات
اچھا وہ باغ خلد جہاں رہ چکے ہیں ہمہم سے ہی کر رہا ہے تو زاہد وہاں کی بات