پرشانت کی آواز میں
میں سوچتا رہتا ہوں دماغوں میں نہیں جو
کلام: نصیر احمد ناصر · محفل: درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہی نصیر احمد ناصر · 2026-11-07
میں سوچتا رہتا ہوں دماغوں میں نہیں جوہے کون سا وہ پھول کہ باغوں میں نہیں جو
ہوتی ہے کسی دیدۂ نمناک کی لو سےوہ روشنی کیسی ہے چراغوں میں نہیں جو