6 اشعار

خیرات صرف اتنی ملی ہے حیات سے

Khairaat sirf itni mili hai hayaat se

خیرات صرف اتنی ملی ہے حیات سے

«خیرات صرف اتنی ملی ہے حیات سے» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے مرزا جواد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)» میں 23 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

خیرات صرف اتنی ملی ہے حیات سےپانی کی بوند جیسے عطا ہو فرات سے

شبنم اسی جنوں میں ازل سے ہے سینہ کوبخورشید کس مقام پہ ملتا ہے رات سے

ناگاہ عشق وقت سے آگے نکل گیااندازہ کر رہی ہے خرد واقعات سے

سوئے ادب نہ ٹھہرے تو دیں کوئی مشورہہم مطمئن نہیں ہیں تری کائنات سے

ساکت رہیں تو ہم ہی ٹھہرتے ہیں با قصوربولیں تو بات بڑھتی ہے چھوٹی سی بات سے

آساں پسندیوں سے اجازت طلب کرورستہ بھرا ہوا ہے عدمؔ مشکلات سے

— عبدالحمیدعدم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں