7 اشعار

مطلب معاملات کا کچھ پا گیا ہوں میں

Matlab mu'āmalāt kā kuchh pā gayā hoon main

مطلب معاملات کا کچھ پا گیا ہوں میں

«مطلب معاملات کا کچھ پا گیا ہوں میں» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)» میں 23 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

مطلب معاملات کا کچھ پا گیا ہوں میںہنس کر فریب چشم کرم کھا گیا ہوں میں

بس انتہا ہے چھوڑیئے بس رہنے دیجئےخود اپنے اعتماد سے شرما گیا ہوں میں

ساقی ذرا نگاہ ملا کر تو دیکھناکمبخت ہوش میں تو نہیں آ گیا ہوں میں

شاید مجھے نکال کے پچھتا رہے ہوں آپمحفل میں اس خیال سے پھر آ گیا ہوں میں

کیا اب حساب بھی تو مرا لے گا حشر میںکیا یہ عتاب کم ہے یہاں آ گیا ہوں میں

میں عشق ہوں مرا بھلا کیا کام دار سےوہ شرع تھی جسے وہاں لٹکا گیا ہوں میں

نکلا تھا مے کدے سے کہ اب گھر چلوں عدمؔگھبرا کے سوئے مے کدہ پھر آ گیا ہوں میں

— عبدالحمیدعدم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں