6 اشعار

خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں

KHālī hai abhī jām mein kuchh soch rahā hoon

خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں

«خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)» میں 23 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوںاے گردش ایام میں کچھ سوچ رہا ہوں

ساقی تجھے اک تھوڑی سی تکلیف تو ہوگیساغر کو ذرا تھام میں کچھ سوچ رہا ہوں

پہلے بڑی رغبت تھی ترے نام سے مجھ کواب سن کے ترا نام میں کچھ سوچ رہا ہوں

ادراک ابھی پورا تعاون نہیں کرتادے بادۂ گلفام میں کچھ سوچ رہا ہوں

حل کچھ تو نکل آئے گا حالات کی ضد کااے کثرت آلام میں کچھ سوچ رہا ہوں

پھر آج عدمؔ شام سے غمگیں ہے طبیعتپھر آج سر شام میں کچھ سوچ رہا ہوں

— عبدالحمیدعدم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں