11 اشعار

ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے

Sāqī sharāb lā ke tabī'at udās hai

ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے

«ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)» میں 23 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہےمطرب رباب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے

رک رک کے ساز چھیڑ کہ دل مطمئن نہیںتھم تھم کے مے پلا کہ طبیعت اداس ہے

چبھتی ہے قلب و جاں میں ستاروں کی روشنیاے چاند ڈوب جا کہ طبیعت اداس ہے

مجھ سے نظر نہ پھیر کہ برہم ہے زندگیمجھ سے نظر ملا کہ طبیعت اداس ہے

شاید ترے لبوں کی چٹک سے ہو جی بحالاے دوست مسکرا کہ طبیعت اداس ہے

ہے حسن کا فسوں بھی علاج فسردگیرخ سے نقاب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے

میں نے کبھی یہ ضد تو نہیں کی پر آج شباے مہ جبیں نہ جا کہ طبیعت اداس ہے

امشب گریز و رم کا نہیں ہے کوئی محلآغوش میں در آ کہ طبیعت اداس ہے

کیفیت سکوت سے بڑھتا ہے اور غمقصہ کوئی سنا کہ طبیعت اداس ہے

یوں ہی درست ہوگی طبیعت تری عدمؔکمبخت بھول جا کہ طبیعت اداس ہے

توبہ تو کر چکا ہوں مگر پھر بھی اے عدمؔتھوڑا سا زہر لا کہ طبیعت اداس ہے

— عبدالحمیدعدم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں