5 اشعار

تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا

Taklīf miT gaī magar ehsās rah gayā

تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا

«تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے فخر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)» میں 23 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیاخوش ہوں کہ کچھ نہ کچھ تو مرے پاس رہ گیا

پل بھر میں اس کی شکل نہ آئی اگر نظریک دم الجھ کے رشتۂ انفاس رہ گیا

فوٹو میں دل کی چوٹ نہ تبدیل ہو سکینقلیں اتار اتار کے عکاس رہ گیا

وہ جھوٹے موتیوں کی چمک پر پھسل گئیمیں ہاتھ میں لیے ہوئے الماس رہ گیا

اک ہم سفر کو کھو کے یہ حالت ہوئی عدمؔجنگل میں جس طرح کوئی بے آس رہ گیا

— عبدالحمیدعدم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں