6 اشعار

آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے

Aaj yaron ko mubarak ho ke subh-e-eid hai

آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے

«آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے» آبرو شاہ مبارک کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک» میں 17 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہےراگ ہے مے ہے چمن ہے دل ربا ہے دید ہے

دل دوانہ ہو گیا ہے دیکھ یہ صبح بہاررسمسا پھولوں بسا آیا انکھوں میں نیند ہے

شیر عاشق آج کے دن کیوں رقیباں پے نہ ہوںیار پایا ہے بغل میں خانۂ خورشید ہے

غم کے پیچھو راست کہتے ہیں کہ شادی ہووے ہےحضرت رمضاں گئے تشریف لے اب عید ہے

عید کے دن رووتا ہے ہجر سیں رمضان کےبے نصیب اس شیخ کی دیکھو عجب فہمید ہے

سلک اس کی نظم کا کیوں کر نہ ہووے قیمتیآبروؔ کا شعر جو دیکھا سو مروارید ہے

— آبرو شاہ مبارک

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں