4 اشعار

شوق بڑھتا ہے مرے دل کا دل افگاروں کے بیچ

Shauq badhta hai mere dil ka dil afgaron ke beech

شوق بڑھتا ہے مرے دل کا دل افگاروں کے بیچ

«شوق بڑھتا ہے مرے دل کا دل افگاروں کے بیچ» آبرو شاہ مبارک کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک» میں 17 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 32 سیکنڈ ہے۔

شوق بڑھتا ہے مرے دل کا دل افگاروں کے بیچجوش کرتا ہے جنوں مجنوں کا گلزاروں کے بیچ

عاشقاں کے بیچ مت لے جا دل بے شوق کوشیشۂ خالی کو کیا عزت ہے مے خواروں کے بیچ

رو بہ رو اور آنکھ اوجھل ایک ساں ہو جس کا پیاراس طرح کا کم نظر آتا ہے کوئی یاروں کے بیچ

آبروؔ غم کے بھنور میں دل خدا سیتی لگاناخدا کچھ کام آتا نہیں ہے منجدھاروں کے بیچ

— آبرو شاہ مبارک

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں