7 اشعار

کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہ

Kyoon malamat is qadar karte ho be-hasil hai yeh

کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہ

«کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہ» آبرو شاہ مبارک کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک» میں 17 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہلگ چکا اب چھوٹنا مشکل ہے اس کا دل ہے یہ

بے قراری سیں نہ کر ظالم ہمارے دل کوں منعکیوں نہ تڑپے خاک و خوں میں اس قدر بسمل ہے یہ

عشق کوں مجنوں کے افلاطوں سمجھ سکتا نہیںگو کہ سمجھاوے پہ سمجھے گا نہیں عاقل ہے یہ

کون سمجھاوے مرے دل کوں کوئی منصف نہیںغیر حق کو چاہتا ہے کیوں ایتا باطل ہے یہ

کون ہے انساں کا کوئی دوست ایسا جو کہےموت اس کی فکر میں لاگی ہے اور غافل ہے یہ

عاشقی کے فن میں ہے دل سیں جھگڑنا بے حسابکچھ نہیں باقی رکھا اس علم میں فاضل ہے یہ

ہم تو کہتے تھے کہ پھر پانے کے نہیں جانے نہ دواب گئے پر آبروؔ پھر پائیے مشکل ہے یہ

— آبرو شاہ مبارک

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں