5 اشعار

ہمارے سانولے کوں دیکھ کر جی میں جلی جامن

Hamare saanwle ko kyoon dekh kar jee mein jali jamun

ہمارے سانولے کوں دیکھ کر جی میں جلی جامن

«ہمارے سانولے کوں دیکھ کر جی میں جلی جامن» آبرو شاہ مبارک کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک» میں 17 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

ہمارے سانولے کوں دیکھ کر جی میں جلی جامنلگا پھیکا سواد اس کا نہیں لگتی بھلی جامن

سراپا آج نمکینی و نرمی و گدازی سوںہوا یہ سانولا گویا نمک میں کی گلی جامن

لگے ہے ترش ظاہر میں پے ہے یہ سانولا میٹھامزے داری میں ہے گویا یہ مصری کی ڈلی جامن

تمہارے رنگ کی تمثیل اس کوں دوں تو کھل جاوےخوشی سیں سانوری ہو کر کے کوئل کی کلی جامن

کیا رم سانورے نیں آبروؔ کوں دیکھ کر پانیلگا برسات کا موسم دیکھو یارو چلی جامن

— آبرو شاہ مبارک

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں