7 اشعار

ہم نیں سجن سنا ہے اس شوخ کے دہاں ہے

Hum nain sajan suna hai us shokh ke dahan hai

ہم نیں سجن سنا ہے اس شوخ کے دہاں ہے

«ہم نیں سجن سنا ہے اس شوخ کے دہاں ہے» آبرو شاہ مبارک کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک» میں 17 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

ہم نیں سجن سنا ہے اس شوخ کے دہاں ہےلیکن کبھو نہ دیکھا کیتا ہے اور کہاں ہے

ڈھونڈا ہزار تو بھی تیرا نشاں نہ پایالشکر میں گل رخاں کے تیری مثل کہاں ہے

اب تشنگی کا روزہ شاید کھلے ہماراشام و شفق سجن کا مسی و رنگ پاں ہے

دل میں کیا ہے دعوا انکھیاں ہوئی ہیں منکرتیری کمر کا جھگڑا ان دو کے درمیاں ہے

رہتا ہوں اے پیارے قدموں تلے تمہارےجس راہ آوتے ہو عاجز کا وہیں مکاں ہے

تجھ خط پشت لب میں تس کا سخن ہوا سبزاس کی زباں دہن میں مانند برگ پاں ہے

پیری سیں قد کماں ہے ہر چند آبروؔ کااس نوجواں کی خاطر دل اب تلک کشاں ہے

— آبرو شاہ مبارک

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں