6 اشعار

عشق ہے اختیار کا دشمن

Ishq hai ikhtiyar ka dushman

عشق ہے اختیار کا دشمن

«عشق ہے اختیار کا دشمن» آبرو شاہ مبارک کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک» میں 17 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

عشق ہے اختیار کا دشمنصبر و ہوش و قرار کا دشمن

دل تری زلف دیکھ کیوں نہ ڈرےجال ہو ہے شکار کا دشمن

ساتھ اچرج ہے زلف و شانے کامور ہوتا ہے مار کا دشمن

دل سوزاں کوں ڈر ہے انجہواں سیںآب ہو ہے شرار کا دشمن

کیا قیامت ہے عاشقی کے رشکیار ہوتا ہے یار کا دشمن

آبروؔ کون جا کے سمجھاوےکیوں ہوا دوست دار کا دشمن

— آبرو شاہ مبارک

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں