6 اشعار

رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلا

Rakhe koi is tarah ke laalchi ko kab talak behla

رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلا

«رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلا» آبرو شاہ مبارک کا کلام ہے، جسے وقاراحسن نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک» میں 17 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلاچلی جاتی ہے فرمائش کبھی یہ لا کبھی وہ لا

مجھے ان کہنہ افلاکوں میں رہنا خوش نہیں آتابنایا اپنے دل کا ہم نیں اور ہی ایک نو محلا

رہی ہے سر نوا سنمکھ گئی ہے بھول منصوبہتری انکھیوں نیں شاید مات کی ہے نرگس شہلا

کیا تھا غیر نیں ہم رنگ ہو کر وصل کا سوداتمہارا دیکھ مکھ کا آفتاب اس کا تو دل دہلا

کف پا یار کا ہے پھول کی پنکھڑی سے نازک ترمرا دل نرم تر ہے اس کے ہوتے اس سے مت سہلا

جوابوں میں غزل کے آبروؔ کیوں کہل کرتا ہےتو اک ادنیٰ توجہ بیچ کہہ لیتا ہے مت کہلا

— آبرو شاہ مبارک

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں