7 اشعار

کوئی سنگ رہ بھی چمک اٹھا تو ستارۂ سحری کہا

Koi sang-e-reh bhi chamak utha toh sitarah-e-sehri kaha

کوئی سنگ رہ بھی چمک اٹھا تو ستارۂ سحری کہا

«کوئی سنگ رہ بھی چمک اٹھا تو ستارۂ سحری کہا» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

کوئی سنگ رہ بھی چمک اٹھا تو ستارۂ سحری کہامری رات بھی ترے نام تھی اسے کس نے تیرہ شبی کہا

مرے روز و شب بھی عجیب تھے نہ شمار تھا نہ حساب تھاکبھی عمر بھر کی خبر نہ تھی کبھی ایک پل کو صدی کہا

مجھے جانتا بھی کوئی نہ تھا مرے بے نیاز ترے سوانہ شکست دل نہ شکست جاں کہ تری خوشی کو خوشی کہا

کوئی یاد آ بھی گئی تو کیا کوئی زخم کھل بھی اٹھا تو کیاجو صبا قریب سے ہو چلی اسے منتوں کی گھڑی کہا

بھری دوپہر میں جو پاس تھی وہ ترے خیال کی چھاؤں تھیکبھی شاخ گل سے مثال دی کبھی اس کو سرو سہی کہا

کہیں سنگ رہ کہیں سنگ در کہ میں پتھروں کے نگر میں ہوںیہ نہیں کہ دل کو خبر نہ تھی یہ بتا کہ منہ سے کبھی کہا

مرے حرف حرف کے ہاتھ میں سبھی آئنوں کی ہیں کرچیاںجو زباں سے ہو نہ سکا اداؔ بہ حدود بے سخنی کہا

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں