آخری ٹیس آزمانے کو
کلام: ادا جعفری
آخری ٹیس آزمانے کوجی تو چاہا تھا مسکرانے کو
یاد اتنی بھی سخت جاں تو نہیںاک گھروندا رہا ہے ڈھانے کو
ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)
مہمان شاعر: ادا جعفری
آخری ٹیس آزمانے کوجی تو چاہا تھا مسکرانے کو
یاد اتنی بھی سخت جاں تو نہیںاک گھروندا رہا ہے ڈھانے کو
ویسے ہی خیال آ گیا ہےیا دل میں ملال آ گیا ہے
آنسو جو رکا وہ کشت جاں میںبارش کی مثال آ گیا ہے