8 اشعار

گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاں

Gulon si guftugu karein qayamatton ke darmiyan

گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاں

«گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاں» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے حسن شبیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاںہم ایسے لوگ اب ملیں حکایتوں کے درمیاں

لہولہان انگلیاں ہیں اور چپ کھڑی ہوں میںگل و سمن کی بے پناہ چاہتوں کے درمیاں

ہتھیلیوں کی اوٹ ہی چراغ لے چلوں ابھیابھی سحر کا ذکر ہے روایتوں کے درمیاں

جو دل میں تھی نگاہ سی نگاہ میں کرن سی تھیوہ داستاں الجھ گئی وضاحتوں کے درمیاں

صحیفۂ حیات میں جہاں جہاں لکھی گئیلکھی گئی حدیث جاں جراحتوں کے درمیاں

کوئی نگر کوئی گلی شجر کی چھاؤں ہی سہییہ زندگی نہ کٹ سکے مسافتوں کے درمیاں

اب اس کے خال و خد کا رنگ مجھ سے پوچھنا عبثنگہ جھپک جھپک گئی ارادتوں کے درمیاں

صبا کا ہاتھ تھام کر اداؔ نہ چل سکوگی تمتمام عمر خواب خواب ساعتوں کے درمیاں

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں