9 اشعار

توفیق سے کب کوئی سروکار چلے ہے

Taufeeq se kab koi sarokar chale hai

توفیق سے کب کوئی سروکار چلے ہے

«توفیق سے کب کوئی سروکار چلے ہے» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

توفیق سے کب کوئی سروکار چلے ہےدنیا میں فقط طالع بیدار چلے ہے

ٹھہروں تو چٹانوں سی کلیجے پہ کھڑی ہےجاؤں تو مرے ساتھ ہی دیوار چلے ہے

ہر غنچہ بڑے چاؤ سے کھلتا ہے چمن میںہر دور کا منصور سر دار چلے ہے

رنگوں کی نہ خوشبو کی کمی ہے دل و جاں کوتوشہ جو چلے ساتھ وہ اک خار چلے ہے

دل کے لیے بس آنکھ کا معیار بہت ہےجو سکۂ جاں ہے سر بازار چلے ہے

حیرت سے شگوفوں کی جھپکتی نہیں آنکھیںکس آن سے کانٹوں کا خریدار چلے ہے

خورشید وہاں ہم نے سلگتے ہوئے دیکھےکرنوں کا جس آشوب میں بیوپار چلے ہے

اک جنبش مژگاں کی اجازت بھی نہیں ہےدل ساتھ چلا ہے کہ ستم گار چلے ہے

تھے خضر بھی لاکھوں یہاں عیسیٰ بھی بہت تھےآزار جو دل کا ہے سو آزار چلے ہے

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں