کوئی سنگ رہ بھی چمک اٹھا تو ستارۂ سحری کہا
کلام: ادا جعفری
کوئی سنگ رہ بھی چمک اٹھا تو ستارۂ سحری کہامری رات بھی ترے نام تھی اسے کس نے تیرہ شبی کہا
مرے روز و شب بھی عجیب تھے نہ شمار تھا نہ حساب تھاکبھی عمر بھر کی خبر نہ تھی کبھی ایک پل کو صدی کہا