4 اشعار

ذکراُن کا ا بھی ہو بھی نہ بایا ہے زباں سے

Zikr un ka ab bhi ho bhi na paya hai zabaan se

ذکراُن کا ا بھی ہو بھی نہ بایا ہے زباں سے

«ذکراُن کا ا بھی ہو بھی نہ بایا ہے زباں سے» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

ذکراُن کا ا بھی ہو بھی نہ بایا ہے زباں سےدل میں یہ اُجالے اُتر آئے ہیں کہاں سے

لوں سانس بھی آہستہ کہ یہ جائے ادب ہےتحریر کروں اسمِ نبی ہدیہء جاں سے

کرنیں سی چھٹک جائیں اسی حجرہء دل میںتُم ان کو پکارو تو حضور دل و جاں سے

ہر دور کی اُمید ہیں ہر عہد کا پیغامپہجان ہے ان کی نہ زمیں سے نہ زماں سے

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں