6 اشعار

آیا ہوں سنگ و خشت کے انبار دیکھ کر

Aaya hoon sang-o-khisht ke ambaar dekh kar

آیا ہوں سنگ و خشت کے انبار دیکھ کر

«آیا ہوں سنگ و خشت کے انبار دیکھ کر» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

آیا ہوں سنگ و خشت کے انبار دیکھ کرخوف آ رہا ہے سایئہ دیوار دیکھ کر

آنکھیں کھلی رہی ہیں مری انتظار میںآئے نہ خواب دیدۂ بیدار دیکھ کر

غم کی دکان کھول کے بیٹھا ہوا تھا میںآنسو نکل پڑے ہیں خریدار دیکھ کر

کیا علم تھا پھسلنے لگیں گے میرے قدممیں تو چلا تھا راہ کو ہموار دیکھ کر

ہر کوئی پارسائی کی عمدہ مثال تھادل خوش ہوا ہے ایک گنہگار دیکھ کر

بے حسی بھی وقت مدد دیکھ لی عدؔیمکترا گیا ہے یار کو بھی یار دیکھ کر

— عدیم ہاشمی