8 اشعار

ایسے تری لکھی ہوئی تحریر کھو گئی

Aise teri likhi hui tehreer kho gayi

ایسے تری لکھی ہوئی تحریر کھو گئی

«ایسے تری لکھی ہوئی تحریر کھو گئی» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

ایسے تری لکھی ہوئی تحریر کھو گئیجیسے جبیں کی لوح سے تقدیر کھو گئی

پلکوں پہ آنسوؤں کے دئیے ڈھونڈتے رہےآنکھوں سے پھر بھی خواب کی تعبیر کھو گئی

کیا تھا شکوۂ قصر پتہ ہی نہ چل سکاملبے کے ڈھیر میں کہیں تعمیر کھو گئی

دن رات کی تہوں میں خد و خال دب گئےاوراق وقت میں تیری تصویر کھو گئی

زندان تعلقات کا قائم نہ رہ سکاقیدی ملا تو پاؤں کی زنجیر کھو گئی

یہ غم نہیں جبین شکن در شکن ہے کیوںشکنوں کے بیچ میں میری تقدیر کھو گئی

حالانکہ یہ دعا تھی مگر مانگتے ہوئےایسے لگا کے ہاتھ کی توقیر کھو گئی

بندھن بندھے ہوئے تھے سبھی کھل گئے عدیمؔمجھ سے تعلقات کی زنجیر کھو گئی

— عدیم ہاشمی