9 اشعار

بس کوئی ایسی کمی سارے سفر میں رہ گئی

Bas koī aisī kamī sāre safar meñ rah gaī

بس کوئی ایسی کمی سارے سفر میں رہ گئی

«بس کوئی ایسی کمی سارے سفر میں رہ گئی» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

بس کوئی ایسی کمی سارے سفر میں رہ گئیجیسے کوئی چیز چلتے وقت گھر میں رہ گئی

کون یہ چلتا ہے میرے ساتھ بے جسم و صداچاپ یہ کس کی میری ہر رہگزر میں رہ گئی

گونجتے رہتے ہیں تنہائی میں بھی دیوار و درکیا صدا اس نے مجھے دی تھی کہ گھر میں رہ گئی

آ رہی ہے اب بھی دروازے سے ان ہاتھوں کی باسجذب ہو کر جن کی ہر دستک ہی در میں رہ گئی

اور تو موسم گزر کر جا چکا وادی کے پاربس ذرا سی برف ہر سوکھے شجر میں رہ گئی

رات در یا میں پھر اک شعلہ سا چکراتا رہاپھر کوئی جلتی ہوئی کشتی بھنور میں رہ گئی

رات بھر ہوتا رہا ہے کن خزانوں کا نزولموتیوں کی سی جھلک ہر برگِ تر میں رہ گئی

لوٹ کر آئے نہ کیوں جاتے ہوئے لمحے عدؔیمکیا کمی میری صدائے بے اثر میں رہ گئی

دل کھنچا رہتا ہے کیوں اس شہر کی جانب عدیمجانے کیا شے اس کی گلیوں کے سفر میں رہ گئی

— عدیم ہاشمی