8 اشعار

جو دیا تو نے ہمیں و ہ صورتِ زر رکھ لیا

Jo diyā tū ne hameñ woh sūrat-e-zar rakh liyā

جو دیا تو نے ہمیں و ہ صورتِ زر رکھ لیا

«جو دیا تو نے ہمیں و ہ صورتِ زر رکھ لیا» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

جو دیا تو نے ہمیں و ہ صورتِ زر رکھ لیاتو نے پتھر دے دیا تو ہم نے پتھر ر کھ لیا

سسکیوں نے چار سو دیکھا کوئی ڈھارس نہ تھیایک تنہائی تھی اس کی گود میں سر رکھ لیا

گھٹ گیا تہذیب کے گنبد میں ہر خواہش کا دمجنگلوں کا مور ہم نے گھر کے اندر رکھ لیا

میرے بالوں پہ سجا دی گرم صحراؤں کی دھولاپنی آنکھوں کے لیے اس نے سمندر رکھ لیا

درز تک سے اب نہ پھوٹے گی تمنا کی پھوارچشمۂ خواہش پہ ہم نے دل کا پتھر رکھ لیا

وہ جو اڑ کر جا چکا ہے دور میرے ہاتھ سےاس کی اک بچھڑی نشانی، طاق میں پر رکھ لیا

دید کی جھولی کہیں خالی نہ رہ جائے عدؔیمہم نے آنکھوں میں تیرے جانے کا منظر رکھ لیا

پھینک دیں گلیاں برونِ صحن سب اس نے عدیمگھر کہ جو مانگا تھا میں نے، وہ پسِ در رکھ لیا

— عدیم ہاشمی