9 اشعار

آنکھوں میں آنسوؤں کو ابھرنے نہیں دیا

Aankhon mein aansuon ko ubharne nahin diya

آنکھوں میں آنسوؤں کو ابھرنے نہیں دیا

«آنکھوں میں آنسوؤں کو ابھرنے نہیں دیا» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

آنکھوں میں آنسوؤں کو ابھرنے نہیں دیامٹی میں موتیوں کو بکھرنے نہیں دیا

جس راہ پر پڑے تھے ترے پاؤں کے نشاںاس راہ سے کسی کو گزرنے نہیں دیا

چاہا تو چاہتوں کی حدوں سے گزر گئےنشہ محبتوں کا اترنے نہیں دیا

ہر بار ہے نیا ترے ملنے کا ذائقہایسا ثمر کسی بھی شجر نے نہیں دیا

یہ ہجر ہے تو اس کا فقط وصل ہے علاجہم نے یہ زخم وقت کو بھرنے نہیں دیا

اتنے بڑے جہان میں جائے گا تو کہاںاس اک خیال نے مجھے مرنے نہیں دیا

ساحل دکھائی دے تو رہا تھا بہت قریبکشتی کو راستہ ہی بھنور نے نہیں دیا

جتنا سکوں ملا ہے ترے ساتھ راہ میںاتنا سکون تو مجھے گھر نے نہیں دیا

اس نے ہنسی ہنسی میں محبت کی بات کیمیں نے عدیمؔ اس کو مکرنے نہیں دیا

— عدیم ہاشمی