6 اشعار

اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا

Apni safaai mein koi ham ne bayaan nahin diya

اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا

«اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیاجل جل کے راکھ ہو گئے پھر بھی دھواں نہیں دیا

کتنی تھی سنگ دل ہوا ، جس نے ہم اہل شوق کےسارے دیے بجھا دیئے ازنِ فغاں نہیں دیا

ایسا نہیں ملا کوئی جس سے بیان حال ہوورنہ تو اشتہار دل ہم نے کہاں نہیں دیا

پنجرے کی جالیوں سے کچھ پھول دکھائی دے سکیںاب کے بہار نے ہمیں ایسا سماں نہیں دیا

کیسے ہیں بد نصیب لوگ ، جن کو خدا نے دہر نہیں دیانطق تو کر دیا عطا ، حسن بیاں نہیں دیا

تخت پے بیٹھ کر بھی وہ رب سے گلہ گزار ہیںرنج یہ ہے کہ کیوں انہیں تخت رواں نہیں دیا

— اعتبارساجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں