6 اشعار

محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مری

Mohtaaj ham-safar ki masaafat na thi meri

محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مری

«محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مری» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مریسب ساتھ تھے کسی سے رفاقت نہ تھی مری

حق کس سے مانگتا کہ مکینوں کے ساتھ ساتھدیوار و بام و در کو ضرورت نہ تھی مری

سچ بول کے بھی دیکھ لیا ان کے سامنےلیکن انہیں پسند صداقت نہ تھی مری

میں جن پہ مر مٹا تھا وہ کاغذ کے پھول تھےرسمی مکالمے تھے محبت نہ تھی مری

جو دوسروں کے دکھ تھے وہی میرے دکھ بھی تھےکچھ ایسی مختلف بھی حکایت نہ تھی مری

بس کچھ اصول تھے جو بہ ہر حال تھے عزیزجانم کسی سے ورنہ عداوت نہ تھی مری

— اعتبارساجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں