7 اشعار

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دو

Tumhein jab kabhi milen fursaten mere dil se bojh utaar do

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دو

«تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتار دو» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

تمہیں جب کبھی ملیں ' فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتاردومیں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو

مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مرے خال وخدمجھے اپنے رنگ میں رنگ دو، مرے سارے زنگ اتار دو

کسی اور کو مرے حال سے نہ غرض ہے کوئی نہ واسطہمیں بکھر گیا ہوں سمیٹ لو' میں بگڑ گیا ہوں سنوار دو

مری وحشتوں کو بڑھا دیا ہے جدائیوں کے عذاب نےمرے دل پہ ہاتھ رکھو ذرا' مری دھڑکنوں کو قرار دو

تمہیں صبح کیسی لگی کہو' مری خواہشوں کے دیار کیجو بھلی لگی تو یہیں رہو' اسے چاہتوں سے نکھار دو

وہاں گھر میں کون ہے منتظر کہ ہو فکر دیر سویر کیبڑی مختصر سی یہ رات ہے اسی چاندنی میں گزار دو

کوئی بات کرنی ہے چاند سے کسی شاخسار کی اوٹ میںمجھے راستے میں یہیں کہیں کسی کنج گل میں اتار دو

— اعتبارساجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں