7 اشعار

کبھی تو نے خود بھی سوچا کہ یہ پیاس ہے تو کیوں ہے

Kabhi tu ne khud bhi socha ke ye pyaas hai to kyun hai

کبھی تو نے خود بھی سوچا کہ یہ پیاس ہے تو کیوں ہے

«کبھی تو نے خود بھی سوچا کہ یہ پیاس ہے تو کیوں ہے» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

کبھی تو نے خود بھی سوچا کہ یہ پیاس ہے تو کیوں ہےتجھے پا کے بھی مرا دل جو اداس ہے تو کیوں ہے

مجھے کیوں عزیز تر ہے یہ دھواں دھواں سا موسمیہ ہوائے شام ہجراں مجھے راس ہے تو کیوں ہے

تجھے کھو کے سوچتا ہوں مرے دامن طلب میںکوئی خواب ہے تو کیوں ہے کوئی آس ہے تو کیوں ہے

میں اجڑ کے بھی ہوں تیرا تو بچھڑ کے بھی ہے میرایہ یقین ہے تو کیوں ہے یہ قیاس ہے تو کیوں ہے

مرے تن برہنہ دشمن اسی غم میں گھل رہے ہیںکہ مرے بدن پہ سالم یہ لباس ہے تو کیوں ہے

کبھی پوچھ اس کے دل سے کہ یہ خوش مزاج شاعربہت اپنی شاعری میں جو اداس ہے تو کیوں ہے

ترا کس نے دل بجھایا مرے اعتبارؔ ساجدیہ چراغ ہجر اب تک ترے پاس ہے تو کیوں ہے

— اعتبارساجد