7 اشعار

تری رحمتوں کے دیار میں ترے بادلوں کو پتا نہیں

Teri rahmaton ke diyaar mein tere baadlon ko pata nahin

تری رحمتوں کے دیار میں ترے بادلوں کو پتا نہیں

«تری رحمتوں کے دیار میں ترے بادلوں کو پتا نہیں» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے وسیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

تری رحمتوں کے دیار میں ترے بادلوں کو پتا نہیںابھی آگ سرد ہوئی نہیں ابھی اک الاؤ جلا نہیں

مری بزم دل تو اجڑ چکی مرا فرش جاں تو سمٹ چکاسبھی جا چکے مرے ہم نشیں مگر ایک شخص گیا نہیں

در و بام سب نے سجا لیے سبھی روشنی میں نہا لیےمری انگلیاں بھی جھلس گئیں مگر اک چراغ جلا نہیں

غم زندگی تری راہ میں شب آرزو تری چاہ میںجو اجڑ گیا وہ بسا نہیں جو بچھڑ گیا وہ ملا نہیں

جو دل و نظر کا سرور تھا مرے پاس رہ کے بھی دور تھاوہی ایک گلاب امید کا مری شاخ جاں پہ کھلا نہیں

پس کارواں سر رہ گزر میں شکستہ پا ہوں تو اس لیےکہ قدم تو سب سے ملا لیے مرا دل کسی سے ملا نہیں

مرا ہم سفر جو عجیب ہے تو عجیب تر ہوں میں آپ بھیمجھے منزلوں کی خبر نہیں اسے راستوں کا پتہ نہیں

— اعتبارساجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں