15 اشعار

کہ یہ عہدِ زندگی ہے

Ke ye ahd-e-zindagi hai

کہ یہ عہدِ زندگی ہے

«کہ یہ عہدِ زندگی ہے» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

کبھی تم نے یہ بھی سوچاکہ تمہارے دلگرفتہ

تمہیں کتنا چاہتے ہیں !تمہیں زندگی سے بڑھ کر

جو عزیز ہم نے جاناسو کوئی سبب تو ہوگا

کبھی تم نے یہ بھی سوچا !سرِ شام منتظر تھے

کہیں نیلمیں اجالےکہیں تتلیاں لبوں کی

کہیں پھول جیسے عارضکہیں قمقموں سی آنکھیں

یہ جو چارہ گر ہمارےکوئی ساعتِ رفاقت

سرِ شام مانگتے تھےانہیں کیا خبر کہ ہم نے

تمہیں سونپ دی ہیں راتیںتمہیں دان کی ہیں آنکھیں

کبھی تم نے یہ بھی سوچاکہ تمہارے دلگرفتہ

پسِ بام و در اکیلےکسی شمعِ سوختہ سے

یہ جو کر رہے ہیں باتیںتمہیں کتنا چاہتے ہیں !

تمہیں روز و شب کے دکھ میںکبھی بھولنا بھی چاہیں

تو کبھی نہ بھول پائیںکہ یہ عہدِ زندگی ہے

جسے توڑنا بھی چاہیںتو کبھی نہ توڑ پائیں !

— اعتبارساجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں