6 اشعار

اندر سےکوئی گھنگھرو چھنکے کوئی گیت سنیں تو لکھیں بھی

Andar se koi ghunghroo chhanake koi geet sunen to likhen bhi

اندر سےکوئی گھنگھرو چھنکے کوئی گیت سنیں تو لکھیں بھی

«اندر سےکوئی گھنگھرو چھنکے کوئی گیت سنیں تو لکھیں بھی» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

اندر سےکوئی گھنگھرو چھنکے کوئی گیت سنیں تو لکھیں بھی​ہم دھیان کی آگ میں تپتے ہیں کچھ اور تپیں تو لکھیں بھی​

​یہ لوگ بیچارے کیا جانیں کیوں ہم نے حرف کا جوگ لیا​اس راہ چلیں تو سمجھیں بھی اس آگ جلیں تو لکھیں بھی​

​دن رات ہوئے ہم وقفِ رفو اب کیا محفل کیا فکرسخن​یہ ہات رکیں تو سوچیں بھی یہ زخم سلیں تو لکھیں بھی​

​ان دیواروں‌ سے کیا کہنا یہ پتھر کس کی سنتے ہیں​وہ شہر ملے تو روئیں بھی وہ لوگ ملیں تو لکھیں بھی​

​خالی ہے من کشکول اپنا کاغذ پہ الٹ کے سرمایہ​جوکشٹ کمائے لکھ ڈالے دکھ اور سہیں تو لکھیں بھی​

​یہ میلانوں کے سوداگر یہ رحجاناں کے شعبدہ گر​جیبوں پہ سجاتے ہیں چوٹیں کچھ دل پہ سہیں تو لکھیں بھی​

— اعتبارساجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں