6 اشعار

مجھے ایسا لطف عطا کیا کہ جو ہجر تھا نہ وصال تھا

Mujhe aisa lutf ata kiya ke jo hijr tha na wisaal tha

مجھے ایسا لطف عطا کیا کہ جو ہجر تھا نہ وصال تھا

«مجھے ایسا لطف عطا کیا کہ جو ہجر تھا نہ وصال تھا» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

مجھے ایسا لطف عطا کیا کہ جو ہجر تھا نہ وصال تھامرے موسموں کے مزاج داں تجھے میرا کتنا خیال تھا

کسی اور چہرے کو دیکھ کر تری شکل ذہن میں آ گئیترا نام لے کے ملا اسے میرے حافظے کا یہ حال تھا

کبھی موسموں کے سراب میں کبھی بام و در کے عذاب میںوہاں عمر ہم نے گزار دی جہاں سانس لینا محال تھا

کبھی تو نے غور نہیں کیا کہ یہ لوگ کیسے اجڑ گئےکوئی میرؔ جیسا گرفتہ دل تیرے سامنے کی مثال تھا

ترے بعد کوئی نہیں ملا جو یہ حال دیکھ کے پوچھتامجھے کس کی آگ جلا گئی مرے دل کو کس کا ملال تھا

کہیں خون دل سے لکھا تو تھا ترے سال ہجر کا سانحہوہ ادھوری ڈائری کھو گئی وہ نہ جانے کون سا سال تھا

— اعتبارساجد