7 اشعار

میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں

Main takiye par sitare bo raha hoon

میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں

«میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوںجنم دن ہے اکیلا رو رہا ہوں

کسی نے جھانک کر دیکھا نہ دل میںکہ میں اندر سے کیسا ہو رہا ہوں

جو دل پر داغ ہیں پچھلی رتوں کےانہیں اب آنسوؤں سے دھو رہا ہوں

سبھی پرچھائیاں ہیں ساتھ لیکنبھری محفل میں تنہا ہو رہا ہوں

مجھے ان نسبتوں سے کون سمجھامیں رشتے میں کسی کا جو رہا ہوں

میں چونک اٹھتا ہوں اکثر بیٹھے بیٹھےکہ جیسے جاگتے میں سو رہا ہوں

کسے پانے کی خواہش ہے کہ ساجدؔمیں رفتہ رفتہ خود کو کھو رہا ہوں

— اعتبارساجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں