5 اشعار

پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے

Phool thhey rang thhey lamhon ki sabahat ham thhey

پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے

«پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھےایسے زندہ تھے کہ جینے کی علامت ہم تھے

سب خرد مند بنے پھرتے تھے ماشاء اللہبس ترے شہر میں اک صاحب وحشت ہم تھے

نام بخشا ہے تجھے کس کے وفور غم نےگر کوئی تھا تو ترے مجرم شہرت ہم تھے

اب تو خود اپنی ضرورت بھی نہیں ہے ہم کووہ بھی دن تھے کہ کبھی تیری ضرورت ہم تھے

دھوپ کے دشت میں کتنا وہ ہمیں ڈھونڈتا تھااعتبارؔ اس کے لیے ابر کی صورت ہم تھے

— اعتبارساجد