7 اشعار

کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا

Kaise kahein ke jaan se pyara nahin raha

کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا

«کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 30 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہایہ اور بات اب وہ ہمارا نہیں رہا

آنسو ترے بھی خشک ہوئے اور میرے بھینم اب کسی ندی کا کنارا نہیں رہا

کچھ دن تمہارے لوٹ کے آنے کی آس تھیاب اس امید کا بھی سہارا نہیں رہا

رستے مہہ‌ و نجوم کے تبدیل ہو گئےان کھڑکیوں میں ایک بھی تارا نہیں رہا

سمجھے تھے دوسروں سے بہت مختلف تجھےکیا مان لیں کہ تو بھی ہمارا نہیں رہا

ہاتھوں پہ بجھ گئی ہے مقدر کی کہکشاںیا راکھ ہو گیا وہ ستارا نہیں رہا

تم اعتبار اس کے لیے کیوں اداس ہواک شخص جو کبھی بھی تمہارا نہیں رہا

— اعتبارساجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں