6 اشعار

ہم بھی شکستہ دل ہیں، پریشان تم بھی ہو

Ham bhi shikasta dil hain, pareshaan tum bhi ho

ہم بھی شکستہ دل ہیں، پریشان تم بھی ہو

«ہم بھی شکستہ دل ہیں، پریشان تم بھی ہو» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

ہم بھی شکستہ دل ہیں، پریشان تم بھی ہواندر سے ریزہ ریزہ میری جان تم بھی ہو

ہم بھی ہیں ایک اجڑے ہوئے شہر کی طرحآنکھیں بتا رہی ہیں کہ ویران تم بھی ہو

درپیش ہے ہمیں بھی کڑی دھوپ کا سفرسائے کی آرزو میں پریشان تم بھی ہو

ہم بھی خزاں کی شام کا آنگن ہیں، بے چراغبیلیں ہیں جس کی زرد وہ دالان تم بھی ہو

جیسے کسی خیال کا سایہ ہیں دو وجودہم بھی اگر قیاس ہیں، امکان تم بھی ہو

مل جائیں ہم تو کیسا سہانا سفر کٹےگھائل ہیں ہم بھی، سوختہ سامان تم بھی ہو​

— اعتبارساجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں