39 اشعار

باز آمد ۔۔۔ ایک منتاج

Baz Aamad... Ek Montage

باز آمد ۔۔۔ ایک منتاج

«باز آمد ۔۔۔ ایک منتاج» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ جشن مرگ محبت منائیں ہم اخترالایمان» میں 27 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 4 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

تتلیاں ناچتی ہیںپھول سے پھول پہ یوں جاتی ہیں

جیسے اک بات ہے جوکان میں کہنی ہے خاموشی سے

اور ہر پھول ہنسا پڑتا ہے سن کر یہ باتدھوپ میں تیزی نہیں

ایسے آتا ہے ہر اک جھونکا ہوا کا جیسےدست شفقت ہے بڑی عمر کی محبوبہ کا

اور مرے شانوں کو اس طرح ہلا جاتا ہےجیسے میں نیند میں ہوں

عورتیں چرخے لیے بیٹھی ہیںکچھ کپاس اوٹتی ہیں

کچھ سلائی کے کسی کام میں مصروف ہیں یوںجیسے یہ کام ہے دراصل ہر اک شے کی اساس

ایک سے ایک چہل کرتی ہےکوئی کہتی ہے مری چوڑیاں کھنکیں تو کھنکھاری مری ساس

کوئی کہتی ہے بھری چاندنی آتی نہیں راسرات کی بات سناتی ہے کوئی ہنس ہنس کر

بات کی بات سناتی ہے کوئی ہنس ہنس کرلذت وصل ہے آزار، کوئی کہتی ہے

میں تو بن جاتی ہوں بیمار، کوئی کہتی ہےمیں بھی گھس آتا ہوں اس شیش محل میں دیکھو

سب ہنسی روک کے کہتی ہیں نکالو اس کواک پرندہ کسی اک پیڑ کی ٹہنی پہ چہکتا ہے کہیں

ایک گاتا ہوا یوں جاتا ہے دھرتی سے فلک کی جانبپوری قوت سے کوئی گیند اچھالے جیسے

اک پھدکتا ہے سر شاخ پہ جس طرح کوئیآمد فصل بہاری کی خوشی میں ناچے

گوندنی بوجھ سے اپنے ہی جھکی پڑتی ہےنازنیں جیسے ہے کوئی یہ بھری محفل میں

اور کل ہاتھ ہوئے ہیں پیلےکوئلیں کوکتی ہیں

جامنیں پکی ہیں، آموں پہ بہار آئی ہےارغنوں بجتا ہے یکجائی کا

نیم کے پیڑوں میں جھولے ہیں جدھر دیکھو ادھرساونی گاتی ہیں سب لڑکیاں آواز ملا کر ہر سو

اور اس آواز سے گونج اٹھی ہے بستی ساریمیں کبھی ایک کبھی دوسرے جھولے کے قریں جاتا ہوں

ایک ہی کم ہے، وہی چہرہ نہیںآخرش پوچھ ہی لیتا ہوں کسی سے بڑھ کر

کیوں حبیبہ نہیں آئی اب تک؟کھلکھلا پڑتی ہیں سب لڑکیاں سن کر یہ نام

لو یہ سپنے میں ہیں، اک کہتی ہےباؤلی سپنا نہیں، شہر سے آئے ہیں ابھی

دوسری ٹوکتی ہےبات سے بات نکل چلتی ہے

ٹھاٹ کی آئی تھی بارات، چنبیلی نے کہابینڈ باجا بھی تھا، دیپا بولی

اور دلہن پہ ہوا کتنا بکھیرکچھ نہ کچھ کہتی رہیں سب ہی مگر میں نے صرف

اتنا پوچھا وہ ندی بہتی ہے اب بھی، کہ نہیںجس سے وابستہ ہیں ہم اور یہ بستی ساری؟

کیوں نہیں بہتی، چنبیلی نے کہااور وہ برگد کا گھنا پیڑ کنارے اس کے؟

وہ بھی قائم ہے ابھی تک یونہیوعدہ کر کے جو حبیبہؔ نہیں آتی تھی کبھی

آنکھیں دھوتا تھا ندی میں جاکراور برگد کی گھنی چھاؤں میں سو جاتا تھا

ماہ و سال آتے، چلے جاتے ہیںفصل پک جاتی ہے، کٹ جاتی ہے

کوئی روتا نہیں اس موقع پرحلقہ در حلقہ نہ آہن کو تپا کر ڈھالیں

کوئی زنجیر نہ ہو!زیست در زیست کا یہ سلسلہ باقی نہ رہے!

بھیڑ ہے بچوں کی چھوٹی سی گلی میں دیکھوایک نے گیند جو پھینکی تو لگی آ کے مجھے

میں نے جا پکڑا اسے، دیکھی ہوئی صورت تھیکس کا ہے میں نے کسی سے پوچھا؟

یہ حبیبہ کا ہے، رمضانی قصائی بولابھولی صورت پہ ہنسی آ گئی اس کی مجھ کو

وہ بھی ہنسنے لگا، ہم دونوں یونہی ہنستے رہے!دیر تک ہنستے رہے!

تتلیاں ناچتی ہیںپھول سے پھول پہ یوں جاتی ہیں

جیسے اک بات ہے جوکان میں کہنی ہے خاموشی سے

اور ہر پھول ہنسا پڑتا ہے سن کر یہ بات!

— اخترالایمان

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں