45 اشعار

کالے سفید پروں والا پرندہ اور میری ایک شام

Kaale Safed Paron Wala Parinda Aur Meri Ek Shaam

کالے سفید پروں والا پرندہ اور میری ایک شام

«کالے سفید پروں والا پرندہ اور میری ایک شام» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 4 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

جب دن ڈھل جاتا ہے، سورج دھرتی کی اوٹ میں ہو جاتا ہےاور بھڑوں کے چھتے جیسی بھن بھن

بازاروں کی گرمی، افرا تفریموٹر، بس، برقی ریلوں کا ہنگامہ تھم جاتا ہے

چائے خانوں ناچ گھروں سے کمسن لڑکےاپنے ہم سن معشوقوں کو

جن کی جنسی خواہش وقت سے پہلے جاگ اٹھی ہےلے کر جا چکتے ہیں

بڑھتی پھیلتی اونچی ہمالہ جیسی تعمیروں پر خاموشی چھا جاتی ہےتھیٹر تفریح گاہوں میں تالے پڑ جاتے ہیں

اور بظاہر دنیا سو جاتی ہےمیں اپنے کمرے میں بیٹھا سوچا کرتا ہوں

کتوں کی دم ٹیڑھی کیوں ہوتی ہےیہ چتکبری دنیا جس کا کوئی بھی کردار نہیں ہے

کوئی فلسفہ کوئی پائندہ اقدار نہیں، معیار نہیں ہےاس پر اہل دانش ودوان، فلسفی

موٹی موٹی ادق کتابیں کیوں لکھا کرتے ہیں؟فرقتؔ کی ماں نے شوہر کے مرنے پر کتنا کہرام مچایا تھا

لیکن عدت کے دن پورے ہونے سے اک ہفتہ پہلےنیلمؔ کے ماموں کے ساتھ بدایوں جا پہنچی تھی

بی بی کی صحنک، کونڈے، فاتحہ خوانیجنگ صفین، جمل اور بدر کے قصوں

سیرت نبوی، ترک دنیا اور مولوی صاحب کے حلوے مانڈے میں کیا رشتہ ہے؟دن تو اڑ جاتے ہیں

یہ سب کالے پر والے بگلے ہیںجو ہنستے کھیلتے لمحوں کو

اپنے پنکھوں میں موند کے آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیںراحت جیسے خواب ہے ایسے انسانوں کا

جن کی امیدوں کے دامن میں پیوند لگے ہیںجامہ ایک طرف سیتے ہیں دوسری جانب پھٹ جاتا ہے

یہ دنیا لمحہ لمحہ جیتی ہےمریمؔ اب کپڑے سیتی ہے

آنکھوں کی بینائی ساتھ نہیں دیتی اباور غضنفرؔ

جو رومال میں لڈو باندھ کے اس کے گھر میں پھینکا کرتا تھااور اس کی آنکھوں کی توصیف میں غزلیں لکھوا کر لایا کرتا تھا

اس نے اور کہیں شادی کر لی ہےاب اپنی لکڑی کی ٹال پہ بیٹھا

اپنی کج رائی اور جوانی کے قصے دہرایا کرتا ہےٹال سے اٹھ کر جب گھر میں آتا ہے

بیٹی پر قدغن رکھتا ہےنئے زمانے کی اولاد اب ویسی نہیں رہ گئی

بدکاری بڑھتی جاتی ہےجو دن بیت گئے کتنے اچھے تھے!

برگد کے نیچے بیٹھو یا سولی چڑھ جاؤبھینسے لڑنے سے باز نہیں آئیں گے

موت سے ہم نے ایک تعاون کر رکھا ہےسڑکوں پر سے ہر لمحہ اک میت جاتی ہے

پس منظر میں کیا ہوتا ہے نظر کہاں جاتی ہےسامنے جو کچھ ہے رنگوں آوازوں چہروں کا میلا ہے!

کرگل اڑ کر وہ پلکھن پر جا بیٹھیپیپل میں طوطے نے بچے دے رکھے ہیں

گلدم جو پکڑی تھی کل بے چاری مر گئینجمہؔ کے بیلے میں کتنی کلیاں آئیں ہیں

پھولوں کی خوشبو سے کیا کیا یاد آتا ہےیہ جب کا قصہ ہے سڑکوں پر نئی نئی بجلی آئی تھی

اور مجھے سینے میں دل ہونے کا احساس ہوا تھاعید کے دن ہم نے لٹھے کی شلواریں سلوائی تھیں

اور سویوں کا زردہ ہمسائے میں بھجوایا تھاسب نیچے بیٹھک میں بیٹھے تھے

میں اوپر کے کمرے میں بیٹھاکھڑکی سے زینبؔ کے گھر میں پھولوں کے گچھے پھینک رہا تھا

کل زینبؔ کا گھر نیلام ہو رہا ہےسرکاری تحویل میں تھا اک مدت سے!

شاید پت جھڑ کا موسم آ پہنچاپتوں کے گرنے کی آواز مسلسل آتی ہے

چیچک کا ٹیکہ بیماری کو روکے رکھتا ہےضبط تولید اسقاط وغیرہ

انسانی آبادی کو بڑھنے سے روکیں گےبندر نے جب سے دو ٹانگوں پر چلنا سیکھا

اس کے ذہن نے حرکت میں آنا سیکھا ہےپتوں کے گرنے کی آواز مسلسل آتی ہے

سڑکوں پر روز نئے چہرے ملتے ہیںموت سے ہم نے ایک تعاون کر رکھا ہے

پس منظر میں نظر کہاں جاتی ہےپھولوں کی خوشبو سے کیا کیا یاد آتا ہے

چوک میں جس دن پھول پڑے سڑتے تھےخونی دروازے پر شہزادوں کی پھانسی کا اعلان ہوا تھا

یہ دنیا لمحہ لمحہ جیتی ہےدلی کی گلیاں ویسی ہی آباد شاد ہیں سب

دن تو کالے پر والے بگلے ہیںجو سب لمحوں کو

اپنے پنکھوں میں موند کے آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیںچاروں جانب رنگ رنگ کے جھنڈے اڑتے ہیں

سب کی جیبوں میں انسانوں کے دکھ درد کا درماںخوشیوں کا نسخہ بندھا پڑا ہے

لیکن ایسا کیوں ہےجب نسخہ کھلتا ہے

1857 جاتا ہے1947 آ جاتا ہے

— اخترالایمان