32 اشعار

تنہائی میں

Tanhai Mein

تنہائی میں

«تنہائی میں» اخترالایمان کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 58 سیکنڈ ہے۔

میرے شانوں پہ ترا سر تھا نگاہیں نمناکاب تو اک یاد سی باقی ہے سو وہ بھی کیا ہے

گھر گیا ذہن غم زیست کے اندازوں میںہر ہتھیلی پہ دھرے سوچ رہا ہوں بیٹھا

کاش اس وقت کوئی پیر خمیدہ آ کرکسی آزردہ طبیعت کا فسانہ کہتا

اک دھندلکا سا ہے دم توڑ چکا ہے سورجدن کے دامن پہ ہیں دھبے سے ریا کاری کے

اور مغرب کی فنا گاہ میں پھیلا ہوا خوںدبتا جاتا ہے سیاہی کی تہوں کے نیچے

دور تالاب کے نزدیک وہ سوکھی سی ببولچند ٹوٹے ہوئے ویران مکانوں سے پرے

ہاتھ پھیلائے برہنہ سی کھڑی ہے خاموشجیسے غربت میں مسافر کو سہارا نہ ملے

اس کے پیچھے سے جھجکتا ہوا اک گول سا چاندابھرا بے نور شعاعوں کے سفینہ کو لیے

میں ابھی سوچ رہا ہوں کہ اگر تو مل جائےزندگی گو ہے گراں بار پہ اتنی نہ رہے

چند آنسو غم گیتی کے لیے چند نفسایک گھاؤ ہے جسے یوں ہی سیے جاتے ہیں

میں اگر جی بھی رہا ہوں تو تعجب کیا ہےمجھ سے لاکھوں ہیں جو بے سود جیے جاتے ہیں

کوئی مرکز ہی نہیں میرے تخیل کے لیےاس سے کیا فائدہ جیتے رہے اور جی نہ سکے

اب ارادہ ہے کہ پتھر کے صنم پوجوں گاتاکہ گھبراؤں تو ٹکرا بھی سکوں مر بھی سکوں

ایسے انسانوں سے پتھر کے صنم اچھے ہیںان کے قدموں پہ مچلتا ہو دمکتا ہوا خوں

اور وہ میری محبت پہ کبھی ہنس نہ سکیںمیں بھی بے رنگ نگاہوں کی شکایت نہ کروں

یا کہیں گوشۂ اہرام کے سناٹے میںجا کے خوابیدہ فراعین سے اتنا پوچھوں

ہر زمانے میں کئی تھے کہ خدا ایک ہی تھااب تو اتنے ہیں کہ حیران ہوں کس کو پوجوں

اب تو مغرب کی فنا گاہ میں وہ سوگ نہیںعکس تحریر ہے اک رات کا ہلکا ہلکا

اور پر سوز دھندلکے سے وہی گول سا چانداپنی بے نور شعاعوں کا سفینہ کھیتا

ابھرا نمناک نگاہوں سے مجھے تکتا ہواجیسے گھل کر مرے آنسو میں بدل جائے گا

ہاتھ پھیلائے ادھر دیکھ رہی ہے وہ ببولسوچتی ہوگی کوئی مجھ سا ہے یہ بھی تنہا

آئینہ بن کے شب و روز تکا کرتا ہےکیسا تالاب ہے جو اس کو ہرا کر نہ سکا

یوں گزارے سے گزر جائیں گے دن اپنے بھیپر یہ حسرت ہی رہے گی کہ گزارے نہ گئے

خون پی پی کے پلا کرتی ہے انگور کی بیلگر یہی رنگ تمنا تھا چلو یوں ہی سہی

خون پیتی رہی بڑھتی رہی کونپل کونپلچھاؤں تاروں کی شگوفوں کو نمو دیتی رہی

نرم شاخوں کو تھپکتے رہے ایام کے ہاتھیوں ہی دن بیت گئے صبح ہوئی شام ہوئی

اب مگر یاد نہیں کیا تھا مآل امیدایک تحریر ہے ہلکی سی لہو کی باقی

بیل پھلتی ہے تو کانٹوں کو چھپا لیتی ہےزندگی اپنی پریشاں تھی پریشاں ہی رہی

چاہتا یہ تھا مرے زخم کے انگور بندھیںیہ نہ چاہا تھا مرا جام تہی رہ جائے

ہاتھ پھیلائے ادھر دیکھ رہی ہے وہ ببولسوچتی ہوگی کوئی مجھ سا ہے یہ بھی تنہا

گھر گیا ذہن غم زیست کے اندازوں میںکیسا تالاب ہے جو اس کو ہرا کر نہ سکا

کاش اس وقت کوئی پیر خمیدہ آ کرمیرے شانوں کو تھپکتا غم تنہائی میں

— اخترالایمان